اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا |
قران کریم کی خصوصیات
ایک مبارک کتاب
"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ؛ [1]
ہم نے اس [قرآن] کو ایک مبارک [اور بابرکت] رات میں اتارا ہے، یقیناً غذہت سے ڈرانے والے ہیں"۔
قرآن کریم ہر لحاظ سے مبارک ہے:
الف) نازل کرنے والی ذات کے لحاظ سے؛ فرمایا:
"تبارك ٱلذي نزل ٱلۡفرۡقان على عبۡده؛ [2]
بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل فرمایا"۔
ب) مقام نزول کے لحاظ سے جو مکہ ہے اور با برکت ہے؛ فرمایا:
"بِبَكَّةَ مُبَارَكًا؛ [3]
ج) وقت نزول کے لحاظ سے؛ فرمایا:
"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ؛ [4]
ہم نے اس کو اتارا ہے ایک مبارک رات میں"
د) متن اور مندرجات کے لحاظ سے؛ فرمایا:
"كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ؛ [5]
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی"۔
وقار و عظمت والی کتاب
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ * فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ * لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ * تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ؛ [6]
بے شک یہ قرآن بڑی شان والا ہے * ایک مجفوظ [پوشیدہ] کتاب میں لکھا ہؤا * جسے بغیر پاک لوگوں کے کوئی نہیں چھوتا * تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے"۔
قرآن کریم میں اللہ اور اللہ کے متعلقات کو "کریم" کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے:
1۔ اللہ کریم ہے؛ جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ؛ [7]
اے انسان! کس چیز نے تجھے اپنے بہت زیادہ کرم والے پروردگار کی نسبت مغرور کر دیا ہے"۔
2۔ قرآن کریم ہے، فرمایا:
"إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ؛ [8]
کہ بے شک یہ قرآن بڑی شان والا ہے"۔
3. رسول اللہ کریم ہیں، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"وَجَآءَهُمۡ رَسُولࣱ كَرِيمٌ؛ [9]
اور ان کے پاس آیا ایک کریم ( اور معزز) پیغمبر"۔
4۔ نزولِ وحی کا ذریع "جبرائیل امین" کریم ہیں؛ فرمایا:
"إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ؛ [10]
یہ ایک کریم [معزز] فرستادے [جبرائیلؑ] کا قول ہے"۔
انسان بھی ـ جو قرآن کا مورد خطاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق ہے، بھی اللہ کی کرامت و عزت سے فیضیاب ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ؛ [11]
اور ضرور ہم نے آدم کی اولاد کو کرامت [عزت] دی ہے"۔
حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام نے اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہونے والی آیات کریمہ کو "کرائم القرآن" قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے:
"فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ وَهُمْ كُنُوزُ الرَّحْمَنِ إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وَإِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا؛ [12]
قرآن کی بہترین تکریمی اور تعریفی آیات اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی ہیں، وہ قرآن کے خزانے ہیں اور اگر بولیں تو حقیقت بولتے ہیں اور اگر بالفرض خاموش رہیں تو کسی کو ان پر پھیل نہیں کرنا چاہئے"۔
جی ہاں قرآن کریم معاشرے اور فرد کی کرامت و عزت کی کنجی ہے، اس پر نظر ڈالنا، اس کی تلاوت کرنا، اسے حفظ کرنا، اس میں غور و تدبر کرنا اور اس سے درس و نصیحت لینا، انسان کی عزت اور نشوونما کا سبب ہے؛ "إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ؛ [13]
قرآن کریم کی ممتاز خصوصیات ـ جو کہ اللہ کا ابدی معجزہ ہے ـ آیت اللہ محسن قرآئتی کی "تفسیر نور" میں، سورہ یونس کی اڑتیسویں آیت [14] کی تفسیر کے ذیل میں بیان ہوئی ہیں:
1۔ مختصر سے کلمات میں معانی کا سمندر:
مثلا عورت اور مرد کے رشتے کے بارے میں قرآنی تعبیر دیکھئے:
"هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ؛ [15]
وہ [خواتین] تمہاری پوشاک [یعنی لباس] ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو"۔
اللہ تعالیٰ غیر خدائی طاقتوں کی کمزوری بیان کرنے کے لئے ان کو "مکڑی کے گھر [جالے]" سے تشبیہ دی ہے۔ [16] یا انہیں ایک مچھر کی تخلیق سے عاجز و بے بس قرار دیا ہے:
"إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَنْ يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِنْ يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَا يَسْتَنْقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ؛ [17]
یہ جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر دہائی دیتے ہو، ہرگز ایک مکھی کو پیدا نہیں کر سکتے چاہے وہ سب اس کے لئے اکٹھا ہو جائیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے چھڑا نہیں سکتے؛ پوجا کرنے والے اور ان کے معبود دونوں عاجز و بے بس ہیں"۔
2۔ کلام کی دائمی شیرینی اور لفظوں کا ابدی اثر:
اگر آپ اسے ایک ہزار بار بھی پڑھیں، یہ پارینگی سے دوچار نہیں ہوتا، پرانا نہیں ہوتا بلکہ ہر بار نیا ہے اور ہر بار اس سے نئے نکتے اخذ ہوتے ہیں۔
3۔ لفظوں کا ترنم اور کلام کی نظم و ترتیب:
قرآن کریم کے الفاظ کی گونج اور ترنم ان ہی کے لئے مختص ہے اور اگر کوئی عرب شخص اپنے کلام میں کسی آیت پڑھ لے یا کوئی شخص احادیث کے ضمن میں قرآنی الفاظ بروئے کار لائے، تو انہیں آسانی سے تشخیص دیا جا سکتا ہے۔
4۔ قرآن کریم کی جامعیت:
قرآن کریم برہان و دلیل سے لے کر امثال تک، دنیا سے لے کر آخرت تک، نیز خاندانی، قانونی، سیاسی عسکری، اخلاقی اور تاریخی مسائل وغیرہ پر مشتمل ہے۔
5۔ قرآن کریم کی حقیقت پسندی:
قرآن کریم کے مندرجات اندازوں، حدس و گمان، قیاس، ظن اور تخمین پر مبنی نہیں ہیں۔ حتیٰ اس کے قصے مستند اور حقیقی ہیں۔
6۔ ہمہ گیریت اور عالمگیریت:
انسان جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، جس سطح پر ہوں، قرآن سے فیض حاصل کرتے ہیں یعنی قرآن صرف ایک ماہرانہ متن کا نام نہیں ہے جو صرف ماہرین کی سمجھ میں آتا ہے اور عام فہم نہ ہو۔
7۔ قرآن کریم کی ابدیت اور جاودانگی (جاودانی ہونا)
بنی نوع انسان کی عمر جتنی آگے بڑھتی ہے اور اس کے علوم و فنون میں جتنی ترقی حاصل ہوتی ہے، قرآن کریم کے اسرار اتنے ہی زیادہ، منکشف ہوتے ہیں۔
8۔ مسلسل نموّ اور بالیدگی
قرآن کریم کو بہت بڑی تعداد میں دشمنوں کا سامنا رہا ہے اور اس کو اور اس کے پیروکاروں پر عظیم صدمے اور نقصانات مسلط کئے گئے ہیں لیکن اسی عرصے میں اس نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے اور اس کو نموّ اور بالیدگی ملی ہے، اور مل رہی ہے۔
9۔ دستیاب معجزہ
قرآن کریم عظیم ترین معجزہ ہے، تاہم یہ معجزہ سب لئے دستیاب ہے اور سب کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی نوعیت لفظ اور کلمہ ہے، جو سب کی دسترس میں ہے۔
10۔ وعظ و نصیحت کا مجموعہ:
قرآن کریم کتااب وعظ و نصیحت کی کتاب ہے یہ قانون اور دستور بھی ہے۔
11۔ ناخواندہ پیغمبرؐ کی کتاب
قرآن کریم ایک نآخواندہ پیغمبرؐ پر نازل ہوئی جو کسی مکتب میں نہیں گئے، اور کسی کے شاگرد نہیں ٹہرے۔
12۔ تحریف سے محفوظ ہے:
قرآن کریم ایسی کتاب ہے جس میں میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی اور نہیں ہوتی اور تحریف سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے تحفظ کی ذمہ داری خود اپنے سر لی ہے۔
13۔ شفاء اور رحمت کا سرمایہ
قرآن کریم شفاء اور رحمت کا سرمایہ ہے، یہ دوا تجویز کرنے والا ہمیں جانتا بھی ہے، ہم سے محبت بھی کرتا ہے؛ اس نسحے کا اثر ابدی ہے اور اس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ہے۔
14۔ قرآن کریم کتاب ہدایت:
قرآن کریم کتاب ہدایت ہے اور خود ہی متعدد بار اس کی حقیقت پر گواہی دیتا ہے: "هُدىً لِلْمُتَّقِينَ؛ (پرہيزگاروں کے لئے ہدایت)"، "هُدًى لِلنَّاسِ؛ (انسانوں کے لئے ہدایت)"، "هُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ؛ (ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے مسلمانوں کے لئے)"؛ "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا؛ (بلاشبہ یہ قرآن ہدایت کرتا ہے ایسے راستے کی جو انتہائی درست ہے اور خوش خبری دیتا ہے ان اہل ایمان کو جو اچھے اعمال کرتے ہیں کہ ان کے لئے بہت بڑا صلہ ہے"
اعجاز قرآن
"أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ؛ [18]
گوکہ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے! کہئے کہ اگر سچے ہو تو اس کے مثل دس ہی گھڑی ہوئی سورتیں لے آؤ اور (اس کام کے لئے) اللہ کے سوا ہر اس شخص کو بلا لو جن کو تم بلا سکو [کہ تمہاری مدد کرے]"۔
قرآن صرف فصاحت و بلاغت ہی کے لحاظ سے معجزہ نہیں ہے بلکہ معارف و تعلیمات، مواعظ اور نصیحتوں، براہین اور دلائل، غیب کی خبروں اور قوانین و ضوابط کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے کیونکہ جملہ "وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ" (جسے مدد کے لئے بلا سکو، بلا لو) صرف عربوں کو نہیں للکارتا جو قرآن کی فصاحت و بلاغت کا ادراک رکھتے ہیں، بلکہ تمام انسانوں کو للکارتا ہے، چنانچہ ایک آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں کو بھی للکارتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:
"قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا؛ [19]
کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جِنّات سب مل کر اس قرآن کی مثل و نظیر لانے کی کوشش کریں تو وہ اس کی مثل و نظیر نہيں لے کر آئیں گے؛ چاہے وہ ایک دوسرے کے پشت پناہ ہی کیوں نہ بن جائیں".
اعجاز قرآن کے پہلو
اعجاز قرآن کے پہلو بکثرت ہیں، قرائت میں اس کے الفاظ کی شیرینی اور حلاوت، اس کے محتویات و مندرجات ميں باہم ہم ربط و ہم آہنگی، ـ باوجود اس کے کہ یہ 23 سال کے عرصے میں نازل ہؤا ہے، ـ ایسے علوم کا بیان جو اس دن تک آشکار نہیں ہوئے تھے، ایسے امور کی پیش گوئی جو بعد میں وقوع پذیر ہوئے، سابقہ اقوام اور امتوں کی خبریں اور رو دادیں، جن کا نام و نشان تک بھی نہیں تھا؛ انسانی حیات کے فردی اور معاشرتی پہلوؤں کے لئے جامع اور کامل قوانین کا بیان؛ صدیاں گذرنے کے باوجود، ہر قسم کی تحریف اور کمی بیشی اور پارینگی سے محفوظ رہنا اور نسیان و فراموشی سے دوچار نہ ہونا۔
خدائے متعال نے للکارا، اور قرآن کے بارے میں مخالفین کے مختلف دعوؤں پر انہیں مثل و نظیر لانے کے لئے کہا، اور پھر انہیں تدریجاً تخفیف و رعایت بھی دی مگر وہ بے بس رہے: دیکھئے:
ایک موقع پر ارشاد ہوتا ہے: "يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ؛ جن و انسان اس قرآن کی مثل لائیں)" ایک آیت میں رعایت دے کر ارشاد ہوتا ہے: "فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ؛ اس قسم کی دس سورتیں لے کر آؤ)"، ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے "فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ؛ [20] (تم اس کی مثل [صرف] ایک سورہ لے کر آؤ)۔
خدائے متعال قرآن کریم للگارنے کے ساتھ ساتھ تحریک بھی دلاتا ہے مثلا "جنات اور انسان اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کے پشت پناہ بھی بن جائیں اس کی مثل نہیں نہیں لا سکتے"، اور ایک جگہ ارشاد فرماتا ہے:
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ؛ [21]
اور اگر تم اس کی طرف سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا شک میں مبتلا ہو تو اس قبیل کا ایک سورہ لے آؤ اور جو اللہ کو چھوڑ کے تمہارے حامی ہیں انہیں بھی بلا لو اگر تم سچے ہو * اب اگر تم نے ایسا نہ کیا، اور ہرگز نہ کر سکو گے، تو پھر بچنے کا سامان کرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اور جو کافروں کے لئے مہیا کی گئی ہے۔"۔
اس آیت کریمہ میں مخالفین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ کرہ ارض کے تمام انسانوں اور اہل فکر اور اہل خطابت و کتابت کو بلا لو، لیکن قرآن کی مثل نہیں لا سکو گے۔
تاریخ نے بھی ثابت کیا ہے کہ جن دشمنوں نے اسلام کے خلاف بہت سی جنگ لڑی ہیں، بہت ساری سازشیں کی ہیں لیکن کبھی بھی قرآن کی ایک سورت کی مثل و نظر نہیں لا سکے ہیں، تو کیا معجزہ اس کے سوا کچھ اور ہے؟
قرآنی داستانوں کی ممتاز خصوصیات
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ؛ [22]
ہم آپ کے سامنے بہترین قصے بیان کرتے ہیں اس سے جو ہم نے آپ کی طرف قرآن کی کی صورت میں وجی کرکے بھیجا ہے حالانکہ آپ اس سے پہلے [ان سے] بے خبر تھے"۔
قرآنی قصوں اور دوسری داستانوں میں فرق:
1۔ قصہ سنانے والا خود خدا ہے: "نَحْنُ نَقُصُّ"۔
2۔ قرآنی قصے با مقصد ہیں: "كُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ؛ اور پیغمبروں کے واقعات میں سے ہر وہ چیز ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں جس سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں"۔ [23]
3۔ قرآنی قصے حق ہیں، نہ کہ خیال یا تصور: "نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُمْ بِالْحَقِّ؛ ہم آپ کے سامنے ان کی خبر [اور واقعے] کو حقیقت کے مطابق بیان کرتے ہیں"۔ [24]
4۔ قرآنی قصے علم کی بنیاد پر ہیں: "فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِمْ بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ؛ تو ہم بے شک ان کے سامنے پورے علم و آگہی کے ساتھ سب واقعات پیش کرتے ہیں اور [کیونکہ] ہم غیر حاضر تو تھے نہیں"۔ [25]
5۔ قرآنی قصے غور و تفکر کا وسیلہ ہیں، نہ کہ غافل کرنے کا وسیلہ: "فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ؛ اور آپ ان قصوں [اور واقعات] کو بیان کرتے رہئے، شاید وہ غور و فکر کریں"۔ [26]
6۔ قرآنی قصے عبرت اور سبق سیکھنے اور سکھانے کا وسیلہ ہیں نہ کہ تفریح کا ذریعہ: "لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ؛ بلاشبہ ان کے واقعات میں سبق ہے صاحبان عقل کے لئے۔ [27]
قاریوں کی قسمیں
"وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ؛ [28]
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو توجہ سے سے سنو اور خاموش رہو شاید کہ تم پر رحم کیا جائے"۔
امام محمد باقر (علیہ السلام) نے قاریوں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"قُرَّاءُ الْقُرْآنِ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَاتَّخَذَهُ بِضَاعَةً وَاسْتَدَرَّ بِهِ الْمُلُوكَ وَاسْتَطَالَ بِهِ عَلَى النَّاسِ وَرَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَحَفِظَ حُرُوفَهُ وَضَيَّعَ حُدُودَهُ وَأَقَامَهُ إِقَامَةَ الْقِدْحِ فَلَا كَثَّرَ اللَّهُ هَؤُلَاءِ مِنْ حَمَلَةِ الْقُرْآنِ وَرَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَوَضَعَ دَوَاءَ الْقُرْآنِ عَلَى دَاءِ قَلْبِهِ فَأَسْهَرَ بِهِ لَيْلَهُ وَأَظْمَأَ بِهِ نَهَارَهُ وَقَامَ بِهِ فِي مَسَاجِدِهِ وَتَجَافَى بِهِ عَنْ فِرَاشِهِ فَبِأُولَئِكَ يَدْفَعُ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْبَلَاءَ وَبِأُولَئِكَ يُدِيلُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْأَعْدَاءِ وَبِأُولَئِكَ يُنَزِّلُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ الْغَيْثَ مِنَ السَّمَاءِ فَوَ اللَّهِ لَهَؤُلَاءِ فِي قُرَّاءِ الْقُرْآنِ أَعَزُّ مِنَ الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ؛ [29]
قرآن کریم کے قاری تین قسم کے ہیں:
1۔ ایک آدمی وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور اسے کمائی کا ذریعہ بنا دیتا ہے اور اس اس کے ذریعے سے بادشاہوں سے صلہ [اور اجرت] طلب کرتا ہے اور لوگوں پر بڑائی جتاتا ہے؛
2۔ دوسرا وہ آدمی ہے جو قرآن پڑھتا ہے، اس کے الفاظ کو حفظ [یاد] کر لیتا ہے، لیکن اس کے احکام اور حدود کو پامال کر دیتا ہے، اور باقی اوقات میں اس کو اپنے پیچھے ڈال دیتا ہے جس طرح کہ اونٹ سوار اپنے پانی کے برتن کو اپنے پیچھے لٹکا دیتا ہے؛ اور خدا نہ کرے کہ قرآن کے ان پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے؛ خدا نہ کرے کہ قرآن پڑھنے والوں میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ جائے۔
3۔ تیسرا آدمی وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور قرآن کے مرہم کو اپنے بیمار دل پر رکھتا ہے، اور (اس کی تلاوت، اس پر عمل کرنے، اور اس کے معانی میں غور و خوض کرنے کے لئے) شب بیداری کرتا ہے، اور دنوں کو پیاسا رہتا ہے [یعنی روزہ رکھے]، اور اپنی نمازوں اور نماز میں اور نماز کے مقامات میں قرآن کر بپا رکھتا ہے، اور نیند کے نرم اور گرم بستر سے قرآن کی خاطر، دوری کرتا ہے؛ اور اس قسم ہی کے لوگ ہیں جن کی خاطر خدائے عزیز و جبّار بلاؤں کو ٹال دیتا ہے اور ان ہی کی برکت سے آسمان سے بارش برساتا ہے؛ تو اللہ کی قسم! قرآن کے قاریوں میں سے یہ لوگ 'کبریت احمر' [30] سے بھی زیادہ قیمتی اور کمیاب ہیں"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
۔۔۔۔۔۔۔۔
[1]۔ سورہ دخان، آیت 3۔
[2]۔ سورہ فرقان، آیت 1۔
[3]۔ "إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ؛ یقینا سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لئے مقرر ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایۂ ہدایت تمام جہانوں کے لئے"۔ (سورہ آل عمران، آیت 96)۔
[4]۔ سورہ دخان، آیت 3۔
[5]۔ سورہ ص، آیت 29۔
[6]۔ سوہ واقعہ، آیت 77-80
[7]۔ سورہ انفطار، آیت 6۔
[8]۔ سورہ واقعہ، آیت 77۔
[9]۔ سورہ دخان، آیت 17۔
[10]۔ سورہ حاقہ، آیت 40؛ سورہ تکویر، آیت 19۔
[11]۔ سورہ اسراء، آیت 70۔
[12]۔ نہج البلاغہ، خطبہ 154۔
[13]۔ سورہ واقعہ، آیت 77۔
[14]۔ "أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِثْلِهِ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ؛ کیا وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ کہئے کہ پھر لے آؤ ایک سورہ اس کے مثل اور بلا لو جس جس کو بلا سکو اللہ کے علاوہ، اگر تم سچے ہو"۔
[15]۔ سورہ بقرہ، آیت 187۔
[16]۔ "مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا ۖ وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ ۖ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ؛ ان لوگوں کی مثل ـ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر حوالی موالی (اور دوست اور سرپرست) مقرر کئے ہیں، ـ مکڑی کی سی ہے جس نے ایک مکان تیار کیا اور ـ اگر وہ جانتے ـ یقینا تمام مکانوں میں سب سے زیادہ کمزور مکڑی کا بنایا ہوا مکان ہوتا ہے، کاش وہ جانیں"۔ (سورہ عنکبوت، آیت 41۔)
[17]۔ سورہ حج، آیت 73۔
[18]۔ سورہ ہود، آیت 13۔
[19]۔ سورہ اسراء، آیت 88۔
[20]۔ سورہ یونس، آیت 28۔
[21]۔ سورہ بقرہ، آیات 23 و 24۔
[22]۔ سورہ یوسف، آیت 3۔
[23]۔ سورہ ہود، آیت 120۔
[24]۔ سورہ کہف، آیت 13۔
[25]۔ سورہ اعراف، آیت 7۔
[26]۔ سورہ اعراف، آیت 176۔
[27]۔ سورہ یوسف، آیت 111۔
[28]۔ سورہ اعراف، آیت 204۔
[29]۔ الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، الکافی، ج2، ص627؛ الطبرسی، علی بن حسن بن فضل (سبط امین الاسلام)، مشکاۃ الانوار فی غُرَرِ الاخبار، ج1، ص269۔ الدیلمی، حسن بن محمد، اعلام الدین فی صفات المؤمنین، ص101۔
[30]۔ 'کبریت احمر' کے معنی لال گندھک کے ہیں جو نہایت کمیاب اور اکسیر کا جزوِ اعظم ہے۔
آپ کا تبصرہ